ابنا: عوامیہ شہر اور قطیف کے علاقوں میں نماز جنازہ کے دوران نمازیوں نے احتجاج کیا۔نماز جنازہ میں شریک لوگوں نے ملک میں جاری حکومت مخالف مظاہرین پر آل سعود کے سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے تشدد کی مذمت کی اور حکمران آل سعود خاندان کے خلاف نعرے لگائے۔23 جون کو سعودی پولیس نے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتاری کی کوشش کے دوران مرسی علی ابراہیم الربہ پر فائرنگ کرکے انہیں بری طرح زخمی کر دیا تھا۔ الربہ کے جو ملک میں آمریت کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں حکومت کو مطلوب 23 سرگرم کارکنوں میں سے ایک تھے، زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں شہید ہو گئے۔2011 سے ملک میں شروع ہونے والی اسلامی بیداری کے باعث قطیف میں سعودی فورسز کی بربریت کا شکار ہونے والے الربہ 18ویں شہید تھے۔21 جون کو بھی قطیف کے گاؤں الطوبی میں حکومت مخالف انسانی حقوق کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے کے دوران حکومت فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا تھا۔ پولیس نے 19 سالہ نوجوان کے سر اور کندھے میں گولیاں ماری تھیں۔سعودی عرب میں کسی بھی طرح کے احتجاج اور سیاسی اجتماع پر پابندی ہے۔سعودی عرب کی جیلوں میں بڑی تعداد میں سیاسی قیدی بند ہیں۔سیاسی قیدیوں کی حمایت میں ان کے اہل خانہ اور رشتہ داروں سمیت جمہوریت پسند افراد نے ریاض، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بریدہ سمیت بڑے شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے کیے ہیں۔فروری 2011 کے بعد سے سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کی آزادی اور ملک میں بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کے خاتمہ کے مطالبے میں وسیع پیمانے پر احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔ خاص طور پر قطیف اور عوامیہ میں مسلسل حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں۔...../169
26 جون 2013 - 19:30
News ID: 434284
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں آل سعود حکومت کے فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے دو سماجی کارکنوں کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی ہے۔